بنگلورو،15 /دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کرناٹک قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ایم ایل سی رہنما نے آج گؤرکشہ قانون کے خلاف ہنگامہ کیا۔
کانگریس لیڈر اسپیکر کی کرسی پر پہنچے اور زبردستی اسپیکر کو کرسی سے اتاردیا۔ ایوان کے ڈپٹی اسپیکر اور جنتا دل (سیکولر-جے ڈی ایس) کے رہنما نے کانگریس کے صدر کے پرتاپ چندر شیٹی کی کرسی پر قبضہ کرلیا۔
تاہم بی جے پی ممبروں کی طرف سے پہلے منظور شدہ عدم اعتماد کی تحریک کی ضرورت پر بحث جاری ہے۔ اس دوران کانگریس ایم ایل سی کو زبردستی نائب صدر کو ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس واقعے کے بعد شیٹی نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔اس ہنگامے پر کانگریس کے ایم ایل سی پرکاش راٹھوڑ نے کہا کہ جب ایوان کی کارروائی نہیں چل رہی تھی، تب بی جے پی اور جے ڈی ایس نے غیر قانونی طور پر چیئرمین کو کرسی پر بٹھادیا۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بی جے پی ایسے غیر آئینی کام کررہی ہے۔ کانگریس نے انہیں اپنی کرسی سے نیچے اترنے کو کہا۔ جب انہوں نے کرسی سے اترنا گوارہ نہیں کیا۔ تب ہمیں وہاں سے بے دخل کرنا پڑا کیونکہ یہ غیر قانونی تھا۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت نے بدھ کے روز گؤرکشہ کا ایکٹ اور مویشی تحفظ بل -2020 منظور کیا۔ اس نئے قانون کے تحت ریاست میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی لگانے اور اسمگلنگ، غیر قانونی نقل و حمل، گائے پر مظالم اور گائے ذبح کرنے والوں پر سخت سزا دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ تاہم حزب اختلاف اس بل پر بی جے پی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ اس بل کوزبردست ہنگامہ کے درمیان ایوان میں منظور کرایا گیا تھا۔ کانگریس اب اس بل کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کی بات کر رہی ہے۔